سوتا[1]
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - پانی کا چشمہ، ذخیرۂ آب یا سوت سے نکل کر بہنے والا پانی۔ "وہ تخلیق کا سوتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٤٧ )
اشتقاق
پراکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو "آرائش محفل" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پانی کا چشمہ، ذخیرۂ آب یا سوت سے نکل کر بہنے والا پانی۔ "وہ تخلیق کا سوتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٤٧ )
جنس: مذکر